لاہور: قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے 35 ارب روپے مالیت کے جعلی امریکی ڈاک ٹکٹوں کے بڑے فراڈ میں ملوث ایک مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ جیو نیوز کے ذرائع نے اتوار کو بتایا کہ ملزم، جس کی شناخت محمد رضوان کے نام سے ہوئی ہے، کو لاہور سے حراست میں لیا گیا۔ اس پر 5.1 ملین سے زائد جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ فروخت کرنے کا الزام ہے۔ یہ کارروائی ملک میں سائبر کرائم کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے اور اس سے مالیاتی جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
این سی سی آئی اے نے اس فراڈ سے متعلق لین دین کے لیے مبینہ طور پر استعمال ہونے والے 16 بینک اکاؤنٹس کی بھی نشاندہی کی ہے، جنہیں تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر منجمد کر دیا گیا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ این سی سی آئی اے نے امریکی ڈاک ٹکٹوں کے اس پیچیدہ فراڈ کیس کی گہرائی سے تحقیقات کے لیے آٹھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ ان ٹیموں کو اس پورے آپریشن کی وسعت کا پتہ لگانے، دیگر ممکنہ شریک جرم افراد کی نشاندہی کرنے اور مضبوط قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے ناقابل تردید شواہد اکٹھے کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔
ایجنسی نے اس معاملے کی جامع تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جس سے مزید تفصیلات سامنے آنے اور ممکنہ طور پر مزید گرفتاریاں ہونے کی توقع ہے۔ اس فراڈ سے نہ صرف نمایاں مالی نقصانات ہوئے ہیں بلکہ ڈاک خدمات کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی سنگین خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ این سی سی آئی اے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔





