ہالی ووڈ کی بلاک بسٹر فلم ‘باربی’ اور قدیم یونانی رزمیہ داستان ‘دی اوڈیسی’ بظاہر ایک دوسرے سے بالکل مختلف معلوم ہوتی ہیں، لیکن یہ دونوں ہمارے دور کے ایک اہم ثقافتی اور سماجی رجحان کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یہ رجحان صرف فلمی دنیا تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع ہیں اور یہ ہمارے سیاسی و عوامی زندگی کے ڈھانچے کو متاثر کر رہے ہیں۔
ایک طویل عرصے سے، ‘ہیرو کا بیانیہ’ ہماری کہانیوں، سیاست اور عوامی زندگی کا مرکز رہا ہے۔ یہ بیانیہ ایک واحد، غیر معمولی شخصیت پر توجہ مرکوز کرتا ہے جو تمام مشکلات پر قابو پاتے ہوئے کامیابی حاصل کرتا ہے۔ تاہم، اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ یہ روایتی بیانیہ، جو ایک فرد کی عظمت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، ہماری سیاسی اور عوامی زندگی کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ یہ ہمیں اجتماعی ذمہ داریوں سے غافل کر کے ہر مسئلے کے حل کے لیے کسی ایک ‘نجات دہندہ’ کا انتظار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
یہ رجحان ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ کس طرح ایک ہیرو پر مکمل انحصار کرنے کا تصور اجتماعی کوششوں، باہمی تعاون اور جمہوری اقدار کو کمزور کر رہا ہے۔ جب ہم ہر مسئلے کے حل کے لیے کسی ایک ‘ہیرو’ کا انتظار کرتے ہیں، تو ہم اپنی اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جاتے ہیں اور پیچیدہ مسائل کے سادہ حل تلاش کرنے لگتے ہیں۔ ‘باربی’ اور ‘دی اوڈیسی’ کا موازنہ ہمیں اس بدلتے ہوئے معاشرتی شعور کی گہرائی کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، جہاں اب صرف ایک ہیرو کی کہانی کافی نہیں رہی بلکہ اجتماعی عمل اور مشترکہ قیادت کی ضرورت زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔







