اسلام آباد – وفاقی وزیر خزانہ نے آئندہ مالی سال 2026 کے وفاقی بجٹ میں اہم تجاویز اور اعداد و شمار پیش کیے ہیں، جن میں ٹیکس میں ریلیف کے اقدامات، سبسڈی کا تسلسل، اور قرضوں کی ادائیگی، دفاع اور پنشن کے لیے نمایاں مختص رقم شامل ہے۔ ان تجاویز میں سب سے اہم بیرون ملک بزنس کلاس سفر پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کو ختم کرنے کی تجویز ہے۔
وزیر خزانہ نے اپنے بجٹ خطاب میں واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد بیرون ملک سفر کرنے والے افراد پر مالی بوجھ کو کم کرنا اور معیشت کو مزید سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے مختلف شعبوں کے لیے ٹیکس میں چھوٹ اور مراعات کا بھی اعلان کیا، جس سے عوام اور کاروباری طبقے کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی، دفاعی اخراجات اور سرکاری ملازمین کی پنشن کے لیے بھی بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ یہ اقدامات ملک کی مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنے اور ضروری حکومتی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر سمجھے جا رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے رعایتی ٹیکس نظام بھی جاری رہے گا، جس کا مقصد ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا ہے۔
