ایک حالیہ سروے نے پاکستان کی معاشی صورتحال کے حوالے سے تشویشناک انکشافات کیے ہیں، جس کے مطابق ملک میں غربت کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ تعلیم پر حکومتی اخراجات ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ قومی سطح پر غربت کی شرح 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو لاکھوں افراد کو مزید معاشی مشکلات میں دھکیل رہی ہے۔
سروے کے مطابق، شہری علاقوں میں بھی غربت کی شرح میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں یہ 11.0 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ملک کے شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں بڑھتی ہوئی معاشی تنگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ حیدرآباد میں دریائے سندھ کے خشک بستر پر جھونپڑیوں میں رہنے والے بے گھر افراد کی حالیہ تصاویر ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور بے گھری کی ایک واضح مثال پیش کرتی ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں صورتحال مزید ابتر نظر آتی ہے، جہاں مالی سال 2025 کے دوران تعلیم پر حکومتی اخراجات میں 23 فیصد کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جو 962 ارب روپے تک گر گئے ہیں۔ تعلیم پر اخراجات میں یہ ریکارڈ کمی ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی تشویشناک ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان کو انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانے اور نوجوان نسل کو بہتر مواقع فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیم پر کم سرمایہ کاری طویل مدتی ترقی اور خوشحالی کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔



