بحرین کی ایک عدالت نے ایران کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں تین افراد کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ بحرینی حکام کے مطابق، یہ ملزمان ایران کی پاسداران انقلاب سے براہ راست رابطے میں تھے اور ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ فیصلہ خطے میں ایران اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق، ان ملزمان پر ملک کے حساس دفاعی اور سیکیورٹی معلومات ایران کو فراہم کرنے کا الزام ثابت ہوا ہے۔ بحرینی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ افراد پاسداران انقلاب کے ایجنٹوں کے طور پر کام کر رہے تھے اور ان کا مقصد بحرین میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔ ان پر دہشت گردی کی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور ریاست کے خلاف سازش میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔
بحرین طویل عرصے سے ایران پر اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت اور شیعہ اکثریت کو حکومت کے خلاف اکسانے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ تاہم، ایران ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور انہیں بے بنیاد قرار دیتا ہے۔ اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ بحرینی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ایسے تمام عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھیں گے جو ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کریں گے۔



