بنگلہ دیش کی جلاوطن سابق وزیراعظم حسینہ واجد نے اعلان کیا ہے کہ وہ دسمبر میں اپنے پارٹی ساتھیوں کے ہمراہ وطن واپس آئیں گی اور حکام کے سامنے گرفتاری دیں گی۔ انہیں غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے، تاہم انہوں نے اپنے ملک کی سرزمین پر ہی موت کا سامنا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
حسینہ واجد نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ اپنی سرزمین پر موت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے ملک میں ہی مرنا چاہتی ہیں اور اس کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی۔ ان کا یہ بیان ان کے عزم اور سیاسی جدوجہد کی عکاسی کرتا ہے، اور ان کے حامیوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔
واضح رہے کہ حسینہ واجد کو مختلف مقدمات میں غیر موجودگی میں سزائیں سنائی گئی ہیں، جن میں سزائے موت بھی شامل ہے۔ ان کی دسمبر میں متوقع واپسی بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال میں ایک نیا موڑ لا سکتی ہے اور ملک میں سیاسی سرگرمیوں کو تیز کر سکتی ہے۔ ان کی واپسی کے اعلان نے ملک بھر میں ان کے حامیوں میں جوش و خروش پیدا کر دیا ہے اور سیاسی مبصرین اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔



