نئی دہلی: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں میانمار کی فوجی حکومت کے سربراہ من آنگ ہلینگ سے نئی دہلی میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب میانمار میں فروری 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے سیاسی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے بین الاقوامی سطح پر دباؤ موجود ہے۔
اس ملاقات پر میانمار کے حزب اختلاف کے گروپوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے۔ ان گروہوں کا مؤقف ہے کہ بھارت کی جانب سے فوجی سربراہ کی میزبانی اور ان سے ملاقات کرنا میانمار کی فوجی جنتا کو قانونی حیثیت فراہم کرنے کے مترادف ہے، جو ملک میں جمہوریت کی بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات فوجی حکومت کو مزید تقویت بخشتے ہیں اور مظلوم عوام کی جدوجہد کو کمزور کرتے ہیں۔
تاہم، بھارت نے اس ملاقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ میانمار کے ساتھ سفارتی تعلقات اور بات چیت ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ مصروفیت اور روابط برقرار رکھنے سے ہی خطے میں استحکام کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور میانمار کے عوام تک انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ مکمل طور پر تعلقات منقطع کرنے سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔




