امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے خبردار کیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی ساخت، تاریخ اور افادیت کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کے یکطرفہ اقدامات جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
سفیر رضوان سعید شیخ نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ، جو 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا، پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک اہم اور کامیاب فریم ورک ہے۔ یہ معاہدہ دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان پانی کے تنازعات کو حل کرنے اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی یا اس کی روح کو پامال کرنے کی کوئی بھی کوشش خطے میں پانی کے بحران کو جنم دے سکتی ہے اور دوطرفہ تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتی ہے۔
سفارتی حلقوں میں بات کرتے ہوئے، رضوان سعید شیخ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اس معاہدے کی مکمل پاسداری پر یقین رکھتا ہے اور بھارت سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدے کی شقوں کا احترام کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ایسے اقدامات نہ صرف علاقائی امن کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی پانی کے تنازعات کے حل کے لیے قائم کردہ اصولوں کو کمزور کر سکتے ہیں۔






