بھارت کی جانب سے مبینہ غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کی ملک بدری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ افراد غیر قانونی طور پر بھارت میں مقیم تھے اور انہیں ملک بدر کرنا قانونی تقاضا ہے۔
دوسری جانب، بنگلہ دیش ان تارکین وطن کو واپس لینے سے انکار کر رہا ہے، جس کے باعث سیکڑوں افراد سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیشی حکام ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ یہ افراد ان کے شہری نہیں ہیں اور انہیں زبردستی واپس نہیں لیا جا سکتا۔ اس صورتحال نے سرحد کے دونوں اطراف انسانی بحران کو جنم دیا ہے جہاں بے گھر افراد کھلے آسمان تلے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان یہ تنازعہ سفارتی سطح پر بھی کشیدگی کا باعث بن رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے کو جلد حل نہ کیا گیا تو یہ دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے اور سرحد پر مزید بے چینی کو جنم دے سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

