بھارت میں ایک مسلمان جج کو، جنہوں نے گائے کے تحفظ کے نام پر ہونے والے ایک ہجوم کے ہاتھوں قتل (لنچنگ) کے مقدمے میں 14 ہندو مردوں کو مجرم قرار دیا تھا، جان سے مارنے کی دھمکیوں اور شدید آن لائن بدسلوکی کا سامنا ہے۔ جج تبسم خان کو یہ دھمکیاں اور ہراسانی اس فیصلے کے بعد سے مل رہی ہے جس نے ملک میں مذہبی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، جج تبسم خان نے حال ہی میں ایک ایسے معاملے میں فیصلہ سنایا تھا جہاں گائے کے محافظوں کے ایک گروہ نے مبینہ طور پر ایک شخص کو گائے کی اسمگلنگ کے شبہ میں ہجوم کے ہاتھوں قتل کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد سے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی جا رہی ہے، جس میں انہیں ذاتی حملوں اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ واقعات بھارت میں اقلیتی برادریوں اور انصاف کے نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو نمایاں کرتے ہیں۔
عدالتی حکام اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے جج تبسم خان کو ملنے والی دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ججوں اور عدالتی عملے کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ بھارت میں گائے سے متعلق معاملات انتہائی حساس سمجھے جاتے ہیں، اور ایسے مقدمات میں فیصلے سنانے والے ججوں کو اکثر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ واقعہ عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ایک سنگین چیلنج پیش کرتا ہے۔
