سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے خلاف اپنے مقدمے کے سلسلے میں حلفاً سوالات کے جواب دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ حکم ایک ایسے عدالتی فیصلے کے تحت آیا ہے جہاں ٹرمپ نے بی بی سی پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اپنے پروگرام “پینوراما” کے ایک ایپی سوڈ میں ان کی 2021 کی تقریر کے دو مختلف حصوں کو جوڑ کر غلط تاثر پیش کیا۔
ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ بی بی سی نے ان کی تقریر کے سیاق و سباق سے ہٹ کر حصوں کو جوڑ کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جو ان کے اصل پیغام کو مسخ کرتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس ایڈیٹنگ سے ناظرین کو گمراہ کیا گیا اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ یہ مقدمہ بی بی سی کے پروگرامنگ کی صداقت اور صحافتی اخلاقیات پر سوالات اٹھاتا ہے، خاص طور پر جب بات عوامی شخصیات کی کوریج کی ہو۔
عدالتی حکم کے مطابق، ٹرمپ کو حلف کے تحت گواہی دینے کے لیے پیش ہونا پڑے گا، جو کہ ایک سابق امریکی صدر کے لیے میڈیا ادارے کے خلاف مقدمے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس پیش رفت سے مقدمے کی کارروائی میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے اور یہ میڈیا کی رپورٹنگ کے طریقوں اور عوامی شخصیات کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ اس کیس کا نتیجہ عالمی میڈیا اور سیاست کے تعلقات پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔


