ماسکو میں تعینات مغربی سفارتکاروں نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد سے انہیں شدید نگرانی اور ‘مسلسل بدگمانی’ کی کیفیت کا سامنا ہے۔ ان حکام کا موازنہ ہے کہ روس میں کام کرنے کا موجودہ ماحول سرد جنگ کے دور سے مشابہت رکھتا ہے۔
سفارتکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی ہر حرکت پر باریک بینی سے نظر رکھی جاتی ہے، اور ان کے مواصلاتی ذرائع، بشمول فون کالز اور ای میلز، کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اس صورتحال نے ان میں ایک مستقل بدگمانی پیدا کر دی ہے، جہاں انہیں ہر وقت یہ خدشہ رہتا ہے کہ ان کی نجی گفتگو اور ملاقاتوں کو بھی ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ یہ ماحول ان کے پیشہ ورانہ اور ذاتی تعلقات کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے بعد روس میں سفارتی کام انجام دینا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ سرد جنگ کے دوران بھی مغربی سفارتکاروں کو اسی طرح کی چیلنجز کا سامنا تھا، جب مغربی اور سوویت بلاک کے درمیان شدید کشیدگی تھی۔ موجودہ حالات نے ماسکو میں تعینات مغربی سفارتکاروں کی زندگی کو نہ صرف پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ ان کے روزمرہ کے معمولات اور سفارتی سرگرمیوں پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔


