ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا دفاعی انتظام کسی خاص ریاست کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے اور اس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
انقرہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، ہاکان فیدان نے زور دیا کہ یہ دفاعی تعاون تکنیکی طور پر نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتا ہے۔ نیٹو کا آرٹیکل 5 اجتماعی دفاع کے اصول پر مبنی ہے، جس کے تحت ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے اور وہ اس کے دفاع کے لیے مشترکہ کارروائی کے پابند ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس دفاعی انتظام کا مقصد خطے میں استحکام اور سلامتی کو فروغ دینا ہے، نہ کہ کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم رکھنا۔ یہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک باہمی تعاون کا فریم ورک ہے جو علاقائی اور عالمی امن میں اپنا کردار ادا کرے گا۔



