وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تفتان سرحد کے راستے غیرقانونی طور پر ایران میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں پاکستان اور ایران کے درمیان واقع اہم سرحدی گزرگاہ پر انسانی اسمگلنگ اور غیرقانونی نقل مکانی کی روک تھام کے لیے جاری مہم کے تحت عمل میں لائی گئیں۔
ایف آئی اے کے مطابق، گرفتار کیے گئے افراد میں زیادہ تر ایسے پاکستانی شہری شامل ہیں جو بہتر روزگار کے مواقع کی تلاش میں یا یورپ جانے کے لیے ایران کو ایک عبوری راستہ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ غیرقانونی طریقے سے سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ گرفتار شدگان کو مزید تفتیش اور قانونی چارہ جوئی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
تفتان سرحد طویل عرصے سے غیرقانونی نقل مکانی اور انسانی اسمگلنگ کے لیے ایک حساس راستہ رہا ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیرقانونی طریقوں سے بیرون ملک سفر کرنے سے گریز کریں کیونکہ یہ نہ صرف جان لیوا خطرات کا باعث بن سکتا ہے بلکہ اس کے سنگین قانونی نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ ایف آئی اے نے سرحدوں پر نگرانی کو مزید سخت کر دیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔







