تمباکو نوشی کے نقصانات سے ہر کوئی واقف ہے؛ اس کے باوجود دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس عادت میں مبتلا ہیں۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جو ماہرینِ معاشیات اور رویے کے سائنسدانوں کو طویل عرصے سے پریشان کر رہا ہے۔ روایتی معاشیات کا نظریہ ‘عقلی انتخاب’ (Rational Choice Theory) یہ فرض کرتا ہے کہ افراد ہمیشہ اپنے بہترین مفاد میں فیصلے کرتے ہیں اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر سب سے زیادہ فائدہ مند راستہ چنتے ہیں۔ لیکن تمباکو نوشی کا عمل اس نظریے کو چیلنج کرتا نظر آتا ہے، کیونکہ کوئی بھی ‘عقلی’ شخص جان بوجھ کر اپنی صحت کو نقصان پہنچانے والا انتخاب کیوں کرے گا؟
رویے کی معاشیات (Behavioral Economics) اس معمے کو حل کرنے کے لیے نئے زاویے پیش کرتی ہے۔ یہ نظریہ تسلیم کرتا ہے کہ انسان ہمیشہ مکمل طور پر عقلی نہیں ہوتے بلکہ ان کے فیصلے جذباتی، نفسیاتی اور سماجی عوامل سے متاثر ہوتے ہیں۔ ‘موجودہ تعصب’ (Present Bias) ایک ایسا رجحان ہے جہاں افراد فوری اطمینان کو مستقبل کے طویل مدتی فوائد یا نقصانات پر ترجیح دیتے ہیں۔ تمباکو نوشی کی صورت میں، سگریٹ کا فوری سکون یا لذت اس کے مستقبل کے صحت کے سنگین نتائج پر حاوی ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، خود پر قابو پانے کے مسائل (Self-control problems) بھی اس عادت کو ترک کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں، جہاں افراد اپنی خواہشات پر قابو پانے میں ناکام رہتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ان کے لیے نقصان دہ ہے۔
حکومتیں تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے مختلف اقدامات کرتی ہیں، جن میں ‘گناہ ٹیکس’ (Sin Taxes) یعنی تمباکو کی مصنوعات پر بھاری ٹیکس لگانا شامل ہے۔ ان ٹیکسوں کا مقصد مصنوعات کو مہنگا کرکے ان کے استعمال کو کم کرنا ہے۔ تاہم، ان کی افادیت پر بحث جاری رہتی ہے، کیونکہ بعض اوقات یہ ٹیکس کم آمدنی والے طبقے پر زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔ اشتہارات پر پابندی اور عوامی صحت کی مہمات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں، لیکن تمباکو نوشی کرنے والوں کی ‘عقلی غیر عقلیت’ کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ایک مشکل چیلنج ہے۔ یہ بحث صرف اقتصادی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے: کیا حکومت کو افراد کے انتخاب میں مداخلت کرنی چاہیے، یا انہیں اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے کی آزادی ہونی چاہیے؟ تمباکو نوشی کا مسئلہ اس بات کی ایک بہترین مثال ہے کہ کس طرح انسانی رویہ، معاشیات اور عوامی پالیسیاں ایک پیچیدہ جال میں الجھی ہوئی ہیں۔



