نیویارک میں واقع معروف میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ کو فیشن ڈیزائنر جان گیلیانو کو اعزاز دینے کے اپنے منصوبے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گیلیانو، جو فیشن انڈسٹری کی ایک بڑی شخصیت سمجھے جاتے ہیں، کو 2011 میں یہود دشمنی پر مبنی بیانات دینے پر نفرت انگیز جرم کا مرتکب پایا گیا تھا۔ اس فیصلے پر فیشن اور ثقافتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
گیلیانو کو، جنہیں فیشن کی دنیا کی معروف شخصیت اینا ونٹور کی حمایت حاصل رہی ہے، پیرس کی ایک عدالت نے یہود دشمنی اور نسل پرستانہ توہین کے الزامات میں قصوروار ٹھہرایا تھا۔ اس واقعے کے بعد انہیں ڈائر ہاؤس سے برطرف کر دیا گیا تھا اور ان کے کیریئر کو ایک بڑا دھچکا لگا تھا۔ اب میٹروپولیٹن میوزیم کی جانب سے انہیں اعزاز دینے کا فیصلہ اس وقت تنازع کا باعث بن گیا ہے جب دنیا بھر میں نفرت انگیز جرائم اور ان کے مرتکب افراد کے احتساب پر بحث جاری ہے۔
تنقید کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ ایسے شخص کو اعزاز دینا جس پر نفرت انگیز جرم ثابت ہو چکا ہو، اس سے متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ فیشن انڈسٹری اور ثقافتی ادارے ایسے سنگین معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ میوزیم اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور ایسے افراد کو اعزاز دینے سے گریز کرے جن کا ماضی متنازع اور نفرت انگیز بیانات سے داغدار ہو۔ یہ واقعہ ثقافتی اداروں کے لیے ایک اہم سوال کھڑا کرتا ہے کہ فنکارانہ صلاحیتوں اور اخلاقی ذمہ داریوں کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔






