جاپان نے ویزا فیسوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جو کہ 1978 کے بعد پہلی بار قیمتوں میں اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس اقدام کے تحت ویزا کے اخراجات میں پانچ گنا اضافہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد ملک میں داخلے کے لیے درکار مالی تقاضوں کو پورا کرنا اور انتظامی اخراجات کو بہتر بنانا ہے۔
حکام کے مطابق، یہ اضافہ مختلف قسم کے ویزوں پر لاگو ہوگا اور اس کا اطلاق فوری طور پر کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ جاپان کی حکومت کی جانب سے ملک کی معیشت اور سیاحت کے شعبے کو منظم کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہو سکتا ہے، تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق فیسوں کو ہم آہنگ کیا جا سکے اور ملک کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
تاہم، جاپانی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انہیں ویزا فیسوں میں اس اضافے سے اندرون ملک سیاحت پر فوری اثرات مرتب ہونے کی توقع نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جاپان کی سیاحتی کشش اور عالمی سطح پر اس کی مقبولیت برقرار رہے گی، اور یہ اضافہ سیاحوں کی آمد پر کوئی نمایاں منفی اثر نہیں ڈالے گا۔ حکام کو یقین ہے کہ سیاح جاپان کے منفرد ثقافتی تجربات اور قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے اب بھی بڑی تعداد میں ملک کا رخ کریں گے۔



