پشاور میں جماعت اسلامی کے جاری دھرنے کے دوران، پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے ملک کو درپیش بجلی کے بحران، ظالمانہ ٹیکسوں اور زرعی شعبے کے سنگین مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ عوام مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اور ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ یہ دھرنا انہی عوامی مشکلات کے خلاف ایک پرامن اور جمہوری احتجاج ہے۔
رہنما نے مزید کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، بے جا ٹیکسوں کا نفاذ اور زرعی شعبے کی مسلسل نظراندازی ملک کی معاشی بدحالی کی بڑی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کسانوں کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کھاد، بیج اور دیگر زرعی آلات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود انہیں اپنی فصلوں کا مناسب معاوضہ نہیں مل رہا، جس سے زرعی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔ اسی طرح، عام شہری بجلی کے بھاری بلوں کی ادائیگی کے لیے اپنی بنیادی ضروریات سے محروم ہو رہے ہیں اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
جماعت اسلامی کے رہنما نے واضح کیا کہ ان کی جماعت اپنے مطالبات کی منظوری تک پرامن مزاحمت جاری رکھے گی۔ انہوں نے عہد کیا کہ عوام کو درپیش ان بنیادی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رہے گی اور پارٹی کسی بھی صورت میں اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی عوامی حقوق کے حصول کے لیے ہر ممکن آئینی اور جمہوری راستہ اختیار کرے گی تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
