اسلام آباد: مہنگائی سے ستائے پاکستانیوں کو ایک اور مالی دھچکا لگنے کا امکان ہے، کیونکہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میکانزم کے تحت بجلی کے نرخوں میں 82 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی ہے۔ اگر یہ درخواست منظور ہو جاتی ہے تو جولائی کے بجلی کے بلوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
سی پی پی اے نے مئی کے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی یہ درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو جمع کرائی ہے۔ اس درخواست کا مقصد بجلی کی پیداواری لاگت میں ہونے والے اضافے کو صارفین سے وصول کرنا ہے۔ یہ اضافہ بجلی کے موجودہ ٹیرف کے علاوہ ہوگا اور اس کا براہ راست بوجھ عام صارفین پر پڑے گا۔
پاکستان میں پہلے ہی مہنگائی عروج پر ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ایسے میں بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنے گا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ نئے قرض پروگرام کے لیے مذاکرات کر رہی ہے، جس کے تحت توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ پر زور دیا جا رہا ہے۔



