پاکستان کے شہر حیدرآباد میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی شدید قلت نے مقامی چوڑیوں کی صنعت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس قلت کے باعث صنعت سے وابستہ ہزاروں افراد کو مالی مشکلات کا سامنا ہے، جس سے ان کی روزی روٹی شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔
ایل پی جی کی عدم دستیابی نے نہ صرف چوڑیوں کی فیکٹریوں کے مالکان کو شدید مالی نقصان پہنچایا ہے بلکہ اس صنعت سے منسلک ہزاروں گھروں میں کام کرنے والے ہنرمندوں کی روزی روٹی بھی خطرے میں ڈال دی ہے۔ یہ کارکنان، جن میں بڑی تعداد خواتین کی ہے، اپنے گھروں میں چوڑیاں بنانے کا کام کرتے ہیں اور ایل پی جی کی قلت کے باعث ان کا کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے، جس کے نتیجے میں انہیں بھاری آمدنی کے نقصان کا سامنا ہے۔
حیدرآباد کی چوڑیوں کی صنعت صدیوں پرانی ہے اور یہ شہر کی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایل پی جی کی مسلسل قلت اس روایتی صنعت کی بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے، جس سے ہزاروں خاندانوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ حکومتی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس بحران پر قابو پایا جا سکے اور صنعت کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔






