خیبر پختونخوا میں حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں نے شدید تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ترجمان کے مطابق، بارشوں اور سیلاب سے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خراب موسمی حالات کے پیش نظر سیاحتی مقامات کا رخ کرنے سے گریز کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے مزید بتایا کہ مجموعی طور پر 18 گھروں کو نقصان پہنچا ہے، جن میں سے 15 گھر جزوی طور پر جبکہ 3 گھر مکمل طور پر منہدم ہو گئے ہیں۔ یہ نقصانات صوبے کے مختلف علاقوں بالخصوص بالائی اضلاع میں ریکارڈ کیے گئے ہیں جہاں سیلابی ریلوں نے سڑکوں اور پلوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ہائی الرٹ پر ہیں۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس کے باعث سیلاب کی صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔ پی ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ عوام کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں۔ سیاحوں کو خاص طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پہاڑی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا سفر ملتوی کر دیں۔





