حکومت نے کپاس کی پیداوار کو فروغ دینے اور کسانوں کو جدید بیجوں تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ اب درآمد شدہ کپاس کے بیج کی منظوری کا طویل عمل، جو پہلے سات سال پر محیط تھا، صرف 12 ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔ یہ اقدام زرعی شعبے میں جدت لانے اور کسانوں کو بہتر پیداواری صلاحیت والے بیجوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پنجاب کے کسان کپاس کی کاشت سے گنے اور مکئی جیسی دیگر فصلوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ کپاس کی پیداوار میں کمی اور پرانے بیجوں کے مسائل کے باعث کسانوں کا رجحان دیگر فصلوں کی جانب بڑھ گیا تھا، جس سے ملک کی زرعی معیشت اور ٹیکسٹائل صنعت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ سات سالہ طویل منظوری کا عمل نئے اور جدید بیجوں کی بروقت دستیابی میں ایک بڑی رکاوٹ تھا۔
نئے تیز رفتار منظوری کے عمل سے کسانوں کو جلد از جلد جدید اور بہتر پیداواری صلاحیت والے کپاس کے بیج دستیاب ہو سکیں گے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس سے کپاس کی پیداوار میں اضافہ ہوگا، کسانوں کی آمدنی میں بہتری آئے گی اور ملک کی ٹیکسٹائل صنعت کو بھی فائدہ پہنچے گا جو خام مال کے لیے کپاس پر انحصار کرتی ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں کپاس کی کاشت کو دوبارہ بحال کرنے اور اسے مزید منافع بخش بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔



