عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان خفیہ نوعیت کے تکنیکی مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان موجود کشیدگی کو کم کرنا اور بعض اہم معاملات پر مشترکہ بنیاد تلاش کرنا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات میں تعطل برقرار ہے اور سفارتی سطح پر براہ راست بات چیت کا فقدان ہے۔
ان تکنیکی مذاکرات کو مستقبل میں اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اگر ان ابتدائی بات چیت میں کوئی مثبت پیش رفت ہوتی ہے تو یہ دونوں فریقین کو مزید گہرے اور جامع مذاکرات کی طرف لے جا سکتی ہے، جس میں ممکنہ طور پر جوہری معاہدے (JCPOA) کی بحالی یا دیگر علاقائی مسائل پر بات چیت شامل ہو سکتی ہے۔ قطر، جو ماضی میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے، ایک بار پھر ان حساس بات چیت کی میزبانی کر رہا ہے۔
تاہم، ان مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے محتاط امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اور دیرینہ اختلافات موجود ہیں۔ ماضی میں بھی کئی بار کوششیں کی گئیں لیکن وہ کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ سکیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تکنیکی بات چیت بنیادی طور پر ان رکاوٹوں کو دور کرنے پر مرکوز ہو سکتی ہے جو اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی راہ میں حائل ہیں۔ ان مذاکرات کے نتائج پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں، کیونکہ یہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے اہم مضمرات رکھتے ہیں۔







