اسلام آباد: پاکستان اور بھارت نے قونصلر رسائی معاہدہ 2008 کے تحت قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا ہے۔ یہ تبادلہ ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو دونوں ممالک کے درمیان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہونے والے اقدامات کا حصہ ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، پاکستان نے بھارت کو اپنی جیلوں میں موجود 308 بھارتی قیدیوں کی فہرست فراہم کی، جن میں 42 شہری اور 266 ماہی گیر شامل ہیں۔ اسی طرح، بھارت نے پاکستان کو اپنی جیلوں میں موجود 417 پاکستانی قیدیوں کی فہرست فراہم کی، جن میں 343 شہری اور 74 ماہی گیر شامل ہیں۔ یہ فہرستیں دونوں ممالک کے دارالحکومتوں میں بیک وقت ایک دوسرے کے حوالے کی گئیں۔
پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی جیلوں میں قید پاکستانی شہریوں، خاص طور پر خواتین، بزرگوں اور بیمار افراد کو جلد از جلد رہا کرے۔ پاکستان نے بھارت سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ وہ قیدیوں کی حالت زار کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی قونصلر رسائی کو یقینی بنائے اور ان کی جلد وطن واپسی کے لیے اقدامات کرے۔ یہ تبادلہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باوجود انسانی حقوق اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کی ایک مثال ہے۔







