کوئٹہ: وفاقی حکومت نے بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ صوبے بھر میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ یقین دہانی 25 جولائی 2026 کو کوئٹہ میں بلوچستان کے امن و امان کی صورتحال پر منعقدہ ایک اہم اجلاس کے دوران کرائی گئی۔ اس اجلاس کی مشترکہ صدارت وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر تمام ضروری وسائل اور تعاون فراہم کرے گا تاکہ صوبے کو دہشت گردی کے چیلنج سے مؤثر طریقے سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔ اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بلوچستان کے عوام کو پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ خوف کے بغیر اپنی زندگی گزار سکیں۔
اجلاس میں قومی سلامتی کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ صوبائی اور وفاقی اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو وقت کی ضرورت قرار دیا گیا تاکہ دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو مؤثر طریقے سے توڑا جا سکے اور ان کی مالی معاونت کے ذرائع کو بند کیا جا سکے۔ ان اقدامات کا مقصد بلوچستان میں امن و استحکام کو بحال کرنا اور ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے، جس سے صوبے کی معاشی اور سماجی ترقی کو فروغ ملے گا۔

