ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رات کو نو سے دس گھنٹے یا اس سے زیادہ سونا الزائمر کی بیماری کے بڑھتے ہوئے خطرے کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ یہ مطالعہ نیند کے معیار اور دماغی صحت کے درمیان تعلق پر ایک وسیع گفتگو کا نقطہ آغاز فراہم کرتا ہے، جس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اچھی اور مناسب نیند مجموعی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، لیکن معمول سے زیادہ طویل نیند کسی اندرونی مسئلے کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ صرف ایک اشارہ ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وہ شخص جو زیادہ سوتا ہے اسے الزائمر ہو جائے گا، بلکہ یہ دماغی صحت کے حوالے سے مزید جانچ پڑتال کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج ان افراد کے لیے اہم ہیں جو اپنی نیند کے معمولات میں غیر معمولی تبدیلیاں محسوس کرتے ہیں۔ ماہرین صحت مشورہ دیتے ہیں کہ نیند کے اوقات میں اچانک اور مستقل اضافے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ دماغی صحت کے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا سکے۔ یہ مطالعہ الزائمر جیسی اعصابی بیماریوں کی ابتدائی تشخیص اور روک تھام کی کوششوں میں ایک نئی جہت فراہم کرتا ہے۔





