امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سینیٹر روبیو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک ‘مضبوط’ معاہدہ پیر تک طے پا سکتا ہے۔ یہ معاہدہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور استحکام لانے کی ایک اہم کوشش ہو سکتی ہے۔
زیرِ غور معاہدے میں 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع شامل ہوگی۔ اس توسیع کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹیں عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر گہرے اور منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
اس ممکنہ معاہدے کی تکمیل سے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں اور عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس معاہدے کی حتمی شکل اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار پر مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔



