عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی بڑھتی ہوئی امیدیں ہیں۔ سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ کسی بھی معاہدے سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوگی اور تیل کی سپلائی میں استحکام آئے گا، جس کے نتیجے میں قیمتوں پر دباؤ کم ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو اس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہوگا۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل کی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس کا دوبارہ کھلنا عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
صدر ٹرمپ نے اگرچہ اس ممکنہ معاہدے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ان کے اس بیان نے عالمی منڈیوں میں مثبت ردعمل پیدا کیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے تعلقات میں حالیہ برسوں میں شدید کشیدگی رہی ہے، اور کسی بھی امن کی پیش رفت کو عالمی سطح پر سراہا جائے گا۔ اس پیش رفت سے عالمی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔




