پشاور: ریاستی اداروں پر الزامات عائد کرنے کے ایک مقدمے میں عدالت نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ حکم ایک مقامی عدالت نے دیا ہے، جس کے بعد صوبائی حکومت اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق، سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور ان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے متعدد پیشیوں پر ان کی عدم حاضری کا نوٹس لیتے ہوئے یہ سخت فیصلہ سنایا ہے۔ حکم میں پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سہیل آفریدی کو فوری طور پر گرفتار کر کے آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کرے۔
اس عدالتی حکم کے بعد خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صوبائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ سہیل آفریدی اور ان کی جماعت اس صورتحال سے کیسے نمٹتی ہے۔



