سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے ایک حیران کن اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے ایران میں سٹار لنک انٹرنیٹ سسٹمز کی اسمگلنگ کی۔ یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں انٹرنیٹ کی آزادی اور معلومات تک رسائی پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
سٹار لنک، جو ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ہے، دور دراز علاقوں اور ایسے ممالک میں انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کرنے کے لیے جانا جاتا ہے جہاں حکومتی پابندیاں یا بنیادی ڈھانچے کی کمی ہو۔ ایران میں انٹرنیٹ پر سخت حکومتی کنٹرول اور سنسرشپ کی وجہ سے، سٹار لنک جیسے سسٹمز کو آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کے لیے ایک ممکنہ ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
بینیٹ کا یہ اعتراف اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نیا باب کھولتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے اس اسمگلنگ کے مقاصد یا تفصیلات واضح نہیں کیں، لیکن یہ اقدام ایران میں حکومت مخالف مظاہرین یا عام شہریوں کو انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس انکشاف کے بعد عالمی سطح پر اس پر ردعمل آنے کا امکان ہے، خاص طور پر ایران کی جانب سے جو اسے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دے سکتا ہے۔






