سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رکن صوبائی اسمبلی فرحان انصاری نے حکمران جماعت پیپلز پارٹی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کئی سنگین الزامات عائد کیے۔ ان الزامات کے جواب میں صوبائی سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے غصے میں آ کر فرحان انصاری کی جانب پین پھینک دیا۔ اس واقعے نے ایوان میں گرما گرمی پیدا کر دی اور ماحول کشیدہ ہو گیا۔
تفصیلات کے مطابق، فرحان انصاری اپنی تقریر میں سندھ میں حکومتی کارکردگی، بدعنوانی اور شہری علاقوں کو نظر انداز کرنے پر پیپلز پارٹی کو ہدف تنقید بنا رہے تھے۔ ان کی تقریر کے دوران ماحول پہلے ہی کشیدہ تھا، جب انہوں نے مزید سخت الفاظ استعمال کیے تو شرجیل میمن نے اپنی نشست سے اٹھ کر ان کی طرف پین پھینک دیا۔ اس غیر متوقع ردعمل پر ایوان میں شور شرابا شروع ہو گیا اور دیگر اراکین نے صورتحال کو قابو کرنے کی کوشش کی۔
یہ واقعہ سندھ کی سیاست میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان جاری کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اسمبلی میں اس قسم کے واقعات نہ صرف ایوان کے تقدس کو پامال کرتے ہیں بلکہ جمہوری روایات کے لیے بھی نیک شگون نہیں سمجھے جاتے۔ اسپیکر کی جانب سے صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم اس واقعے نے اجلاس کی کارروائی کو متاثر کیا اور سیاسی حلقوں میں بحث کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا۔





