بھارت میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی جانب سے جاری احتجاج میں اس وقت مزید شدت آ گئی ہے جب معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کو جبری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس اقدام نے ملک بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور حکومت کے خلاف عوامی غم و غصے میں اضافہ ہوا ہے۔
پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنان نے اس اقدام کو حکومت کی جانب سے احتجاج کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ وانگچک کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ وانگچک کی صحت بالکل ٹھیک تھی اور انہیں کسی طبی ایمرجنسی کی وجہ سے ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا بلکہ یہ ان کی آواز کو خاموش کرنے کی ایک سازش ہے۔
سونم وانگچک، جو اپنے ماحولیاتی تحفظ اور لداخ کے آئینی حقوق کے لیے جدوجہد کے حوالے سے جانے جاتے ہیں، گزشتہ کئی دنوں سے بھوک ہڑتال پر تھے تاکہ حکومت پر اپنے مطالبات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ ان کی جبری ہسپتال منتقلی نے احتجاجی مظاہرین کے جذبات کو مزید بھڑکا دیا ہے اور ملک کے مختلف حصوں سے بھی ان کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔
