سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ ہائیکورٹ کے اس فیصلے پر حکم امتناع جاری کر دیا ہے جس میں جامعات کے اساتذہ کو اضافی انتظامی عہدوں سے ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ اہم پیشرفت سندھ یونیورسٹی، داؤد میڈیکل کالج سمیت صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے متعلق ایک پیچیدہ قانونی کیس میں سامنے آئی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے اس اقدام سے ان اساتذہ کو عارضی ریلیف ملا ہے جو بیک وقت تدریسی اور انتظامی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔
سندھ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اساتذہ کا انتظامی عہدوں پر فائز ہونا تدریسی معیار کو متاثر کرتا ہے اور تعلیمی اداروں میں شفافیت اور میرٹ کے اصولوں کے منافی ہے۔ ہائیکورٹ نے مختلف درخواستوں کی سماعت کے بعد یہ حکم جاری کیا تھا جس میں اساتذہ کو ان کے بنیادی تدریسی فرائض پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اس فیصلے کے بعد کئی جامعات میں انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کا عمل شروع ہو گیا تھا جس پر اساتذہ کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔
سپریم کورٹ کے حکم امتناع کے بعد سندھ ہائیکورٹ کا مذکورہ فیصلہ عارضی طور پر معطل ہو گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اساتذہ فی الحال اپنے اضافی انتظامی عہدوں پر برقرار رہ سکیں گے۔ عدالت عظمیٰ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت کے لیے طلب کر لیا ہے۔ اس پیشرفت سے تعلیمی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا اساتذہ کو انتظامی ذمہ داریاں سونپنا تعلیمی نظام کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ۔ کیس کا حتمی فیصلہ آنے تک یہ معاملہ زیر التوا رہے گا اور اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔



