سینیٹر شیری رحمٰن نے بھارت کے دہرے آبی رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتحال کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بھارت کی آبی جارحیت کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کا یہ طرز عمل بین الاقوامی آبی قوانین اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کی جانب سے مون سون کے سیزن میں بغیر پیشگی اطلاع کے پانی چھوڑنا پاکستان میں سیلاب کی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ رویہ نہ صرف پاکستان کے زرعی شعبے اور عوام کے لیے تباہ کن ہے بلکہ علاقائی امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔
شیری رحمٰن نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے اس غیر ذمہ دارانہ آبی رویے کا نوٹس لے اور اسے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری پر مجبور کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور بھارت کو اس کی آبی جارحیت کا حساب دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی یہ پالیسی ناقابل قبول ہے۔





