جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کی آخری کچی آبادی، گوریونگ گاؤں، میں ایک ہولناک آگ بھڑک اٹھی ہے جس کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے انخلا پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ کچی آبادی شہر کے پوش علاقے گنگنم کے قریب واقع ہے اور طویل عرصے سے حکومتی توجہ کا مرکز رہی ہے۔
مقامی حکام کے مطابق، آگ نے گوریونگ گاؤں کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے درجنوں عارضی مکانات جل کر خاکستر ہو گئے۔ فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں اور اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، آگ کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے، تاہم مالی نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
گوریونگ گاؤں سیول کی ترقی یافتہ شہری زندگی کے درمیان ایک منفرد اور پسماندہ علاقہ ہے جہاں غریب اور بے گھر افراد برسوں سے رہائش پذیر ہیں۔ اس علاقے کو مسمار کر کے جدید رہائشی منصوبے شروع کرنے کی کئی کوششیں کی گئی ہیں، لیکن رہائشیوں کی مزاحمت اور دیگر مسائل کی وجہ سے یہ منصوبہ التوا کا شکار رہا ہے۔ اس آگ کے بعد، اس علاقے کے مستقبل اور یہاں کے مکینوں کی بحالی کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔


