نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے 11 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ رائٹرز کے مطابق، اس اہم ملاقات میں علاقائی صورتحال اور باہمی تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں۔
سکیورٹی حکام نے اس موقع پر واضح کیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امریکہ-ایران معاہدے کے حوالے سے واحد دلچسپی خطے میں امن و استحکام کا قیام ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ کوئی ‘شہ سرخیوں کی سفارت کاری’ نہیں بلکہ حقیقی اور پائیدار امن کے حصول کی کوشش ہے۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تمام فریقین کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے، تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا تنازعے سے بچا جا سکے۔
سکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے، جو خطے کی مجموعی سلامتی اور ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ علاقائی ریاستوں کے ساتھ مضبوط تعلقات اور باہمی تعاون کو فروغ دینا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ اسلام آباد کا ماننا ہے کہ خطے کی ترقی اور خوشحالی کا راز باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کے حصول میں پنہاں ہے۔ اس تناظر میں، پاکستان تمام علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے اور ایک پرامن و مستحکم مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔



