پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں فی تولہ سونے کی قیمت 13,700 روپے بڑھ کر 471,936 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ عالمی منڈیوں میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں تیزی کے رجحان کے عین مطابق ہے، جس سے مقامی صارفین اور سرمایہ کار دونوں متاثر ہوئے ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی، جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود کے فیصلوں جیسے عوامل سونے کو سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنا رہے ہیں۔ امریکی ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ بھی سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے، اور ان تمام عالمی عوامل کا براہ راست اثر پاکستان کی مقامی منڈیوں پر بھی پڑا ہے، جس کے نتیجے میں سونے کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
فی تولہ سونے کے ساتھ ساتھ، 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 11,746 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 404,602 روپے ہو گئی ہے۔ سونے کی قیمتوں میں یہ مسلسل اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی معیشت مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اور سرمایہ کار اپنی دولت کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے کا رخ کر رہے ہیں۔ تاہم، چاندی کی قیمتوں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں دیکھی گئی اور وہ 5,800 روپے فی تولہ پر مستحکم رہیں۔
