عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ گزشتہ صرف تین دنوں کے دوران خام تیل کی عالمی قیمتوں میں 12 فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر توانائی کی لاگت میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ یہ کمی عالمی اقتصادی سست روی کے خدشات اور تیل کی طلب میں ممکنہ کمی کے پیش نظر سامنے آئی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔
تاہم، اس عالمی رجحان کے برعکس، پاکستان میں صارفین کو تاحال اس کمی کا کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے۔ بلکہ، گزشتہ صرف 12 دنوں کے اندر ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس مختصر عرصے میں ڈیزل کی قیمت میں 65 روپے سے زائد جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 25 روپے سے زائد کا اضافہ کیا گیا ہے، جس نے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کے لیے زندگی مزید دشوار بنا دی ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود مقامی سطح پر قیمتوں میں مسلسل اضافہ حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھا رہا ہے۔ صارفین اور کاروباری حلقے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام کو منتقل کرے۔ اس تضاد کی وضاحت اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو کچھ سانس لینے کا موقع مل سکے۔




