عمان کے ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز پر ہونے والے حملے کے بعد لاپتا ہونے والے بھارتی انجینئر ہیرمب کرمارکر کی لاش برآمد کر لی گئی ہے۔ حکام نے اس افسوسناک خبر کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ واقعہ عالمی سمندری راستوں پر بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کی ایک اور مثال ہے۔
ہیرمب کرمارکر اتوار کے روز اس وقت لاپتا ہو گئے تھے جب نامعلوم حملہ آوروں نے عمان کے ساحلی علاقے کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ایک جہاز کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، حملے کے دوران جہاز کو شدید نقصان پہنچا اور عملے کے ارکان میں افراتفری پھیل گئی تھی۔ حملے کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم علاقائی کشیدگی کے تناظر میں سمندری راستوں پر ایسے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں اکثر ڈرون یا میزائل حملے شامل ہوتے ہیں۔
لاش کی برآمدگی کے بعد اسے ضروری قانونی کارروائی کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔ بھارتی حکام نے عمان میں اپنے ہم منصبوں سے رابطہ قائم کیا ہے تاکہ ہیرمب کرمارکر کی لاش کو جلد از جلد وطن واپس لایا جا سکے۔ اس واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے مقاصد کا تعین کیا جا سکے۔ اس المناک واقعے نے ایک بار پھر سمندری سفر کی سکیورٹی اور عملے کی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔





