انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کے ایک ہسپتال کے قید سربراہ، حسام ابو صفیہ، کی حالت انتہائی تشویشناک ہے اور ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ انہیں اسرائیلی جیل میں 555 دنوں سے زیادہ عرصے سے قید رکھا گیا ہے، جس کے بعد ان کی صحت تیزی سے بگڑ رہی ہے۔
حسام ابو صفیہ کے بیٹے، الیاس ابو صفیہ، نے بتایا ہے کہ ان کے والد اسرائیلی قید میں طویل عرصہ گزارنے کے بعد اب بمشکل سانس لے پاتے ہیں اور نہ ہی بات کر سکتے ہیں۔ الیاس نے اپنے والد کی صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور عالمی برادری سے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی حکام سے قیدیوں کی صحت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے، خاص طور پر ان قیدیوں کے لیے جن کی صحت تشویشناک ہے۔ حسام ابو صفیہ کا معاملہ غزہ میں جاری تنازعے کے دوران قید کیے گئے فلسطینیوں کی حالت زار کو اجاگر کرتا ہے اور قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی توجہ کا متقاضی ہے۔





