جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے نئے صوبوں کے ‘جبری’ قیام کے خلاف سخت انتباہ جاری کیا ہے اور ملک کے انتظامی ڈھانچے کی از سر نو تشکیل پر ایک جامع بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے اہم فیصلوں کو عوام اور سیاسی جماعتوں کی وسیع مشاورت کے بغیر مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ایک قومی اتفاق رائے ضروری ہے، نہ کہ یکطرفہ اقدامات۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر قومی یکجہتی قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کے مطابق، ملک میں نسلی تقسیم نے بدامنی اور تشدد کو ہوا دی ہے، جس کے نتیجے میں معاشرتی ہم آہنگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قوم کو متحد کرنے کے بجائے، اندرونی اختلافات نے ملک کو مزید کمزور کیا ہے اور قومی شناخت کے بحران کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اپنی معاشی بنیادیں غیر ملکی امداد اور قرضوں پر استوار کی ہیں، جس نے ملک کو اندرونی طور پر مضبوط کرنے کے بجائے بیرونی انحصار میں اضافہ کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا کہ ملک کو درپیش ان بنیادی مسائل پر ایک قومی سطح پر بحث کی جائے تاکہ ایک پائیدار اور متفقہ حل تلاش کیا جا سکے جو ملک کی سالمیت، ترقی اور استحکام کی ضمانت دے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک کھلی اور ایماندارانہ بحث ہی ملک کو صحیح سمت میں لے جا سکتی ہے۔




