پشاور ہائی کورٹ میں ایک منفرد نوعیت کے کیس کی سماعت ہوئی جہاں قائدِاعظم نامی شہری نے اپنا شناختی کارڈ بلاک کیے جانے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ جسٹس قیصر رشید خان پر مشتمل سنگل بینچ نے درخواست کی سماعت کی اور نادرا حکام کو اس معاملے پر وضاحت پیش کرنے کا حکم دیا۔ درخواست گزار، جو کہ ضلع چارسدہ کے رہائشی ہیں، نے عدالت کو بتایا کہ ان کا شناختی کارڈ بلاک کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے انہیں روزمرہ کے معاملات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نادرا نے ان کے موکل کا شناختی کارڈ اس بنیاد پر بلاک کیا ہے کہ ‘قائدِاعظم’ جیسا نام کسی عام شہری کے لیے مناسب نہیں اور یہ قومی ہیرو کی توہین کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ نام درخواست گزار کو پیدائشی طور پر ملا ہے اور یہ ان کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے نام کے ساتھ زندگی گزاریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شناختی کارڈ بلاک ہونے سے ان کے موکل بینکنگ، سفر اور دیگر سرکاری و نجی امور کی انجام دہی سے محروم ہو چکے ہیں۔
عدالت نے نادرا کے اس اقدام پر حیرت کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ کسی شہری کا شناختی کارڈ صرف اس کے نام کی وجہ سے بلاک کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس قیصر رشید خان نے نادرا بورڈ کے چیئرمین اور دیگر متعلقہ حکام کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے امید ظاہر کی کہ نادرا اس مسئلے کا کوئی قابلِ قبول حل تلاش کرے گا تاکہ شہری کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔




