دوحہ: امریکہ کے ساتھ اہم مذاکرات مکمل کرنے کے بعد قطری وفد ایران روانہ ہو گیا ہے۔ اس دورے کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنا اور مختلف معاملات پر تعطل کو ختم کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ قطر، جو خطے میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے، دونوں ممالک کے درمیان براہ راست بات چیت کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خطے میں استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
ان مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کے منجمد اثاثے ہیں، جو امریکہ کی جانب سے عائد پابندیوں کے باعث بیرون ملک روکے گئے ہیں۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ اس کے اربوں ڈالر کے اثاثے غیر منجمد کیے جائیں تاکہ وہ اپنی معیشت کو سہارا دے سکے اور بین الاقوامی تجارت میں حصہ لے سکے۔ یہ منجمد اثاثے ایران کی معاشی مشکلات کو کم کرنے اور اس کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کو دور کرنے کے لیے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
قطری وفد کی یہ کوششیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکہ اور ایران کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ اگرچہ براہ راست مذاکرات کا کوئی واضح شیڈول نہیں ہے، لیکن قطر کی ثالثی کی کوششیں دونوں فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اس دورے پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ سفارتی کوششیں خطے میں استحکام لانے اور امریکہ-ایران تنازعے کے حل کی جانب کوئی ٹھوس پیش رفت کر پاتی ہیں۔





