راولپنڈی کے علاقے لال کڑتی میں 45 سالہ خاتون حنا جاوید کے بہیمانہ قتل کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مقتولہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کر دی گئی ہے جس میں سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، حنا جاوید کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، جو ان کی موت کی فوری وجہ بنی۔ یہ انکشافات کیس کی تفتیش میں ایک نئی جہت فراہم کر رہے ہیں۔
طبی ماہرین کی ابتدائی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مقتولہ کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات بھی پائے گئے ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ قتل سے قبل مزاحمت کی گئی تھی۔ پولیس ذرائع کے مطابق، بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مقتولہ کا گلا دبا کر ہلاک کیا گیا اور پھر گردن کی ہڈی توڑ دیا گیا تاکہ موت کو یقینی بنایا جا سکے۔ پولیس نے اس کیس میں مزید شواہد اکٹھے کرنے کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
پولیس حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی طور پر قریبی افراد اور ممکنہ ملزمان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اعلیٰ پولیس افسران نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث تمام افراد کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ کیس کی مزید تفصیلات اور ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے پیش رفت متوقع ہے۔ (فوٹوز بشکریہ سوشل میڈیا)



