لاہور – لاہور میں ایک بااثر شخص کے خلاف آذربائیجان کی شہری ڈیانا کے ہائی پروفائل جنسی زیادتی کیس نے پنجاب پولیس کی جانب سے سخت کارروائی کو جنم دیا تھا۔ تاہم، اب اس کیس میں ایک نیا موڑ آیا ہے کیونکہ متاثرہ خاتون پاکستان چھوڑ کر جا چکی ہیں اور اب اپنے سنگین الزامات سے یو ٹرن لے رہی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق، متاثرہ خاتون کو ملزم کے حق میں بیان دینے کے لیے 20 ملین روپے (2 کروڑ روپے) کی خطیر رقم ادا کی گئی ہے۔
پولیس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ڈیانا کو مبینہ طور پر 20 ملین روپے (دو کروڑ روپے) کی رقم ادا کی گئی تاکہ وہ اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہو کر ملزم کے حق میں گواہی دے۔ اس پیشرفت نے اس ہائی پروفائل کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے بھی اس کیس کا نوٹس لیا تھا اور پولیس کو فوری کارروائی کی ہدایت کی تھی۔
اس مبینہ ادائیگی اور بیان میں تبدیلی کے بعد کیس کی شفافیت اور انصاف کی فراہمی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف متاثرہ خاتون کے لیے بلکہ پاکستانی عدالتی نظام کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے، جہاں بااثر افراد پر ایسے الزامات لگتے رہتے ہیں۔ حکام سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کریں گے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔



