لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں اپنی بیوی کے قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا پانے والے ایک شخص کو بری کر دیا۔ عدالت نے ملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے تمام الزامات سے آزاد قرار دے دیا، جس کے بعد وہ جیل سے رہا ہو سکے گا۔ یہ فیصلہ انصاف کے نظام میں ایک اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے، جہاں شواہد کی کمی اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک طویل عرصے سے قید شخص کو رہائی ملی۔
تفصیلات کے مطابق، ملزم کو کئی سال قبل سیشن عدالت نے اپنی بیوی کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ استغاثہ نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ملزم نے گھریلو تنازعے کے بعد اپنی بیوی کو قتل کیا، اور اس کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کیے گئے تھے۔ تاہم، ملزم نے ہمیشہ اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیا اور سیشن عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی۔
لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اپیل کی سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کا بغور جائزہ لیا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف ٹھوس اور ناقابل تردید ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے، اور موجودہ کیس میں ملزم کے خلاف براہ راست شواہد کی کمی تھی۔ ان وجوہات کی بنا پر، ہائی کورٹ نے سیشن عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کو بری کرنے کا حکم جاری کیا۔





