برطانوی دارالحکومت لندن میں حالیہ برسوں کے دوران ہزاروں کی تعداد میں اسمارٹ فونز کی چوری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ یہ مسئلہ شہر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے اور شہریوں کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ قیمتی موبائل فونز کا چھن جانا جہاں ایک طرف مالی نقصان کا سبب بنتا ہے، وہیں دوسری طرف ذاتی ڈیٹا کے غلط استعمال کا خطرہ بھی بڑھا دیتا ہے۔
تاہم، کچھ متاثرین کے لیے، اپنے فون کا چوری ہو جانا صرف آغاز تھا۔ چوری کے بعد انہیں نہ صرف اپنے ذاتی ڈیٹا کے غلط استعمال کا خدشہ لاحق ہوا بلکہ انہیں چوروں کی جانب سے دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ یہ دھمکیاں اکثر مزید مالی مطالبات یا ذاتی معلومات کو افشا کرنے کی دھمکیوں پر مشتمل ہوتی ہیں، جو متاثرین کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیتی ہیں۔
اس نئے اور پریشان کن رجحان نے موبائل فون چوری کے مسئلے کو ایک نئی اور زیادہ سنگین جہت دے دی ہے۔ اب یہ صرف قیمتی سامان کے نقصان کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ متاثرین کی ذہنی پریشانی اور ان کی ذاتی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن گیا ہے۔ حکام اس بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے اور شہریوں کو اس دوہری مصیبت سے بچانے کے لیے حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔




