ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جس کے تحت وہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے معاوضہ وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ اقدام عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل کی ترسیل کی گزرگاہ ہے۔
تاہم، دفاعی اور بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس لگانا عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔ ان کے مطابق، ایسا کوئی بھی اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگا اور عالمی برادری کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ماہرین اس دھمکی کو زیادہ تر ایک سیاسی حربہ قرار دے رہے ہیں۔
اس کے باوجود، ایران کی جانب سے یہ دھمکی عالمی شپنگ انڈسٹری میں بے چینی اور اضطراب کا باعث بنی ہے۔ شپنگ کمپنیاں اور تیل برآمد کنندگان اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل اور دیگر تجارتی سامان گزرتا ہے۔ کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تناؤ عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔




