چین میں ایک کوئلے کی کان میں ہونے والے ہولناک دھماکے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں ہفتے کے روز نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں اب تک کم از کم 90 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ اس المناک واقعے کے بعد چینی صدر شی جن پنگ نے فوری طور پر مکمل امدادی کارروائیوں کا مطالبہ کیا ہے اور حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کریں۔ یہ دھماکہ ملک کے کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا کر گیا ہے۔
صدر شی جن پنگ نے اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے تاکہ دھماکے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ “ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے” اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ حفاظتی پروٹوکولز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ چینی قیادت کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں کان کنی کے حادثات پر عوامی تشویش بڑھ رہی ہے۔
چین دنیا کا سب سے بڑا کوئلہ پیدا کرنے والا ملک ہے، اور ماضی میں بھی یہاں کان کنی کے متعدد مہلک حادثات پیش آتے رہے ہیں۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں حکومت نے حفاظتی معیارات کو بہتر بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں، لیکن اس طرح کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور ممکنہ طور پر پھنسے ہوئے افراد کی تلاش کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ حکام نے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔



