ایک وقت تھا جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکی پالیسیوں میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہم ترین اتحادی اور ‘ہم رکاب’ سمجھے جاتے تھے۔ دونوں رہنماؤں نے ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائی تھی، جس میں نیتن یاہو کا کردار کلیدی تھا۔ تاہم، اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے اور نیتن یاہو کی حیثیت ایک اہم کھلاڑی سے گھٹ کر محض ایک تماشائی کی سی رہ گئی ہے۔
جنگ میں ایک اہم شراکت دار ہونے کے باوجود، اسرائیل کو ایران سے متعلق امن مذاکرات سے بڑی حد تک باہر رکھا گیا ہے۔ یہ نیتن یاہو کے لیے ایک ذلت آمیز دھچکا ہے، جو ان کی سفارتی حیثیت کو کمزور کرتا ہے اور ان کے سیاسی مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ امریکہ کی نئی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کی کوششوں میں اسرائیل کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا ہے، جس سے نیتن یاہو کی وہ پوزیشن ختم ہو گئی ہے جہاں وہ امریکی پالیسیوں پر براہ راست اثر انداز ہو سکتے تھے۔
اس صورتحال کے اسرائیل کے لیے سنگین خطرات ہیں۔ امن عمل سے دوری اور اہم علاقائی فیصلوں میں عدم شمولیت ملک کی سیکیورٹی اور علاقائی اثر و رسوخ پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ نیتن یاہو کا یہ ‘مسافر’ بن جانا نہ صرف ان کی ذاتی ناکامی ہے بلکہ اسرائیل کے لیے بھی ایک تشویشناک موڑ ہے، جہاں اسے اپنے سب سے اہم اتحادی کی پالیسیوں میں اپنی آواز کو کمزور ہوتا دیکھنا پڑ رہا ہے۔




